لاک ڈاؤن میں نماز عید Lock Down me Eid ki Namaz

*لاک ڈاون میں نماز عید*

۱۔۔ نماز عید ان لوگوں پر پڑھنا واجب ہے جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے 
*(شامی ج ۳ ص ۴۴)*

۲۔ نماز عید کا وقت طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد سے زوال تک رہتا ہے البتہ مسنون یہ ہے کہ  عید الفطر کی نماز اپنے اول وقت سے  کچھ تاخیر  سے پڑھی جائے

*واما بیان وقت ادائھا فقد ذکر الکرخی وقت صلوۃ العیدین من حین تبیض الشمس الی ان تزول ، لما روی عن النبی ﷺ أنہ کان یصلی العید والشمس علی قدر رمح او رمحین ۔ وفی الخانیۃ والسنۃ فی صلوۃ الفطر التاخیر الی ارتفاع الشمس۔۔(بدائع الصنائع ج ۱ ص۶۱۹)*

۳۔۔اگر عید الفطر کی نماز عید کے دن کسی عذر کی بناء پر ادا نہ کی جا سکے تو دوسرے دن ادا کرنے کی گنجائش ہے اور اگر بغیر عذر کے پہلے دن عید کی نماز ادا نہیں کی تو دوسرے دن ادا کرنا درست نہیں  *(تاتارخانیہ ج ۲ ص ۶۰۳ )*

۴۔۔ عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبیریں  کہنا واجب ہے پہلی رکعت میں ۳ تکبیریں قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع سے پہلے ۳ تکبیریں کہی جائیں گی *(تاتارخانیہ ج ۲ ص ۶۰۵)*

۵۔۔عید کی نماز کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کی شرائط ہیں جیسے مصر یا فناء مصری یا قصبے اور بڑے گاؤں کا ہونا ، جماعت کا ہونا،جسکے تحقق کے لئے امام کے علاوہ تین عاقل بالغ مرد مقتدیوں کا ہونا ضروری ہے ، اذن عام کا ہونا ، اور اذن عام کے لئے لاک ڈاؤن کی صورت میں اتنا کافی ہے کہ دو چار لوگوں کو اطلاع دے دی جائے پہر خواہ کوئی آئے یا نہیں  اذن عام کا تحقق ہو جائے گا ۔
خطبہ کا ہونا،  البتہ عید  کی نماز میں خطبہ دینا مسنون اور اس کا سننا واجب ہے اور یہ خطبہ عید کی نماز کے بعد دیا جائے گا
*واما الخطبۃ لیست بشرط لأنھا تؤدی بعد الصلوۃ (بدائع ج ۱ ص ۶۱۸)*

۶۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مساجد میں جتنے افراد کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے اتنے افراد وہاں نماز عید قائم کریں اگرمسجدمیں نماز ادا کرنے کے لئے باہمی اختلاف کا اندیشہ ہو تو قرعہ اندازی کر لیں اور جو لوگ مساجد میں عید کی نماز نہ پڑھ سکیں وہ اپنے اپنے گھروں میں اذن عام اور دیگر شرائط کے ساتھ نماز ادا کریں یہ بات ملحوظ رکھیں کہ لوگوں کو اکٹھا نہ کریں 

۷۔۔۔جو لوگ عید کی نماز جماعت سے نہ ادا کرسکیں خواہ اسلئے کہ امامت کا اہل شخص میسر نہ ہوا  کہ وہ نماز پڑھا سکے یا امام تو میسر ہو لیکن بھیڑ کے جمع ہونے کا قوی اندیشہ ہو چونکہ اس وقت قانونی طور پر بھیڑ جمع کرنا سخت ممنوع ہے عدم تعمیل پر قید وغیرہ کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے  تو پہر ایسے  لوگ عید کے دن چار رکعت چاشت کی نمازپڑھ لیں  
یہ بات یاد رہے کہ یہ نماز عید کا بدل نہیں ہےبلکہ حصول ثوابِ کے لئے ہے
*ولکنہ یصلی اربعاً مثل صلوۃ الضحی ان شاء لأنھا اذا فاتت لا یمکن تدارکھا بالقضاء لفقد الشرائط  ، فلو صلی مثل صلوۃ الضحی لینال الثواب کان حسنا لکن لا یجب لفقد دلیل الوجوب بدائع ج ۱ ص ٦٢٤*

۸ ۔۔نماز عید کا طریقہ 

سب سے پہلے نماز کی نیت کریں
 نیت دل کے ارادہ کا نام ہے زبان سے کہہ لیں تو بہتر ہے کہ میں دو رکعت واجب نمازِ عید چھ زائد تکبیروں کے ساتھ امام کی اقتداء میں ادا کررہا ہوں 
 پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثنا، پڑھیں 
اس کے بعد تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں 
دو تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدیں اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں

ہاتھ باندھنے کے بعد امام دیگر نمازوں کی طرح پہلی رکعت ادا کرائے گا اس کے بعد امام دوسری رکعت ادا کرائے گا اور دوسری رکعت میں امام قرات کے بعد رکوع سے پہلے تین تکبیریں کانوں تک ہاتھ اٹھاکر کہے گا اس کی اقتداء میں مقتدی بھی تکبیر کہیں اور چوتھی تکبیر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے کہکر رکوع کرے گا مقتدی بھی اس کی اقتداء کریں اس کے بعد دیگر نمازوں کی طرح نماز مکمل کر کے امام دو خطبے دے گا مقتدی حضرات اس کو بغور سنیں خطبہ سے فراغت کے بعد اپنے گھروں کو جائیں 

*مختصر خطبہ عید*

خطبه اولى 

*الله اكبر الله اكبر لا الٰه الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد الحمد لله المُنعمِ الأكبرِ وفَّى الاُجورَ وبثَّ السرورَ بيوم عيدٍ منوَّرٍ. الله اكبر الله اكبر الخ. أما بعد فيا معشر الإخوانِ قال نبينا صلى الله عليه وسلم. إن لكل قوم عيداً وهذا عيدُنا الله اكبر الله اللہ اکبر الخ. فاشكرُوا اللهَ تعالى فيه بأداء صدقةِ الفطرِ فإنها واجبةٌ على مالك نصابٍ عن نفسهٖ وعن طِفلهٖ الصغيرِ نصفَ صاعٍ من حنطةٍ وصاعاً من تمرٍ أو شعيرٍ. الله اكبر الله اكبر الخ. واستُحِبَ لكم أن اغتَسِلوا واستاكوا وتَطيَّبُوا والبَسوا احسن ثِيابِكم بارك الله لنا ولكم فى القرآن العظيم ونفعنا وإياكم بالآيات والذكر الحكيم*
*_________________________*

عید الفطر کا دوسرا خطبہ 

*اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ،  اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ ۞ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَات اَعْمَالِنَا، مَن یَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ ۞ وَاَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ  لَا شَرِیْکَ لَهٗ ۞  اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰه أكْبَرْ الخ ۞ وَاَشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، اَرْسَلَهٗ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ* *۞ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ یَّعْصِهِمَا فَاِنَّهٗ لَا یَضُرُّ اِلَّا نَفْسَهٗ، وَلَا یَضُرُّ اللّٰهَ شَیْئًا ۞ اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ الخ ۞*  
*اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ۞ اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ، یٰۤاَیُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ۞ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ، وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِهٖ وَذُرِّیَّتِهٖ وَصَحْبِهٖ اَجْمَعِیْنَ ۞ اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ الخ ۞*
 *قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُوْبَکْرٍ  وَاَشَدُّهُمْ فِیْ اَمْرِ اللّٰهِ عُمَرُ ، وَاَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ  وَاَقْضَاهُمْ عَلِیٌّ  وَفَاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِسَآءِ اَهْلِ الْجَنَّةِ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ، وَحَمْزَةُ اَسَدُ اللّٰهِ وَاَسَدُ رَسُوْلِهٖ ۞  اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ، یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۞ فَاذْکُرُوا اللّٰهَ یَذْکُرْکُمْ، وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَلَذِکْرُ اللّٰهِ تَعَالٰی اَعْلٰی وَاَوْلٰی وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَتَمُّ وَاَهَمُّ وَاَعْظَمُ وَاَکْبَرُ ۞*  
 *اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ،  اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ،  اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ، اَللّٰهُ اَکْبَرْ ۞*

🌹مزید حوالہ جات🌹

*منحۃ السلوک ج ص ۱۷۷ پی ڈی ایف/ بدائع ج ۱ ص از ۶۱۶ تا ۶۲۰  طحطاوی ج ۱ ص ۵۲۷ / تحفۃ الفقھاء ج ۱ ص ۱۶۶ پی ڈی ایف  / الجوھرۃ النیرۃ ج ۱ ص ۱۱۱/ فتاوی النوازل للسمرقندی الحنفی ج ۱ ۱۱۷ / کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ ج ۱ ص۳۱۴ پی ڈی ایف  شامی ج ۳ ص ۴۴ تا ۴۵ مجمع الانھر ج ۱ ص ۱۷۲* 

*کتبہ العبد المذنب محمد مونس قاسمی سیتاپوری خادم مدرسہ عالیہ عربیہ مدینۃ العلوم اندرا نگر و رکن شوری مجلس شوری مدنی دارالافتاء۔۔۲۳ رمضان المبارک ؁۱۴۴۱ ھجری مطابق ۱۶ مئی ؁۲۰۲۰ عیسوی*

*بہ اجازت مجلس شوری مدنی دارالافتاء*

*اسماء مؤیدین مصححین*

مفتی اسجد قاسمی احمد آبادی صدر جمعیت علمائے احمد آباد ومہتمم جامعہ کاشف العلوم شاہپور
 مولانا سعود عالم صاحب قاسمی شیخ الحدیث جامعہ محمد احمد بنگلور
مفتی محمد لقمان صاحب قاسمی صدر مفتی جامع الہدی مرادآباد
مفتی محمد سلمان قاسمی پالن پوری
قاضی شاھد علی صاحب قاسمی معتمد خاص خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتھم
مولانا محمد عظیم اللہ قاسمی دیوبند
علامہ محمد طارق قاسمی دیوبندی
مفتی اویس احمد حنفی امروہوی
مفتی محفوظ الرحمن قاسمی بجنوری
مفتی حمزۃ الرحمان بھوپالی
مفتی محمد مختار قاسمی پونہ
مفتی ارشاد رحمانی احمدآباد
مفتی محمد عرفان قاسمی گجرات 
علامہ روح الامین ندوی
مفتی مقصود امدادی 
مفتی عبد الرشید قاسمی 
مفتی مجیب الرحمان سنبھلی
مفتی محمد مکرم پالن پوری
مفتی نسیم احمد ندوی
مفتی افتخارالحسن قاسمی 
مفتی عثمان غنی سہارنپوری
مفتی عبد القادر سورتی۔۔

Eid kutba pdf hasil karne k liye  Link Par click kare, 




https://drive.google.com/file/d/1-5nFSwXoc_p6Dfb3S_Usc7ZeOmFb_BaF/view?usp=drivesdk


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں