بیٹی اور بہن کو وراثت سے حصہ دینا فرض ہے ۔
جی ہاں، یہ فرض ہے اور جو لوگ اس فرض سے اعتناء برتتے ہیں وہ سخت گنہگار ہوتے ہیں۔ قرآن میں ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ ہمارے یہاں یہ عجیب و غریب منطق پائی جاتی ہے کہ دولت میں سے حصہ صرف بیٹے کو دینا ہے بیٹی کو نہیں۔ کیوں بھائی؟ اپنی کمائی ہوئی دولت میں سے بیٹے کو حصہ دینا بھی بظاہر اتنا ہی غیر معقول محسوس ہوتا ہے جس قدر بیٹی کو دینا کیونکہ بیٹے نے کونسا کمایا تھا؟ کمایا تو آپ نے خود ہی تھا، تو اگر بیٹے کو منتقل کرتے ہوئے آپ کو تکلیف نہیں ہوتی تو بیٹی کو منتقل کرتے ہوئے کیوں تکلیف ہورہی ہے؟
اگر یہ سوچتے ہو کہ بیٹی پرائے گھر چلی گئی اور اب اسے دولت دینے سے دوسرے لوگ مزے کریں گے، تو یہ جو تمہارے بیٹے کی بیوی ہے وہ بھی تو ایک پرائے گھر کی عورت ہے، تو جب تم اپنے بیٹے کو دولت دو گے تو ایک پرائے گھر کی عورت اس پر مزے نہیں کرے گی؟ اپنی بیٹی کو اپنی دولت سے محروم کرکے دوسرے کی بیٹی کو اس پر مزے کرنے دینا، بھلا یہ کہاں کا انصاف و عقلمندی ہوئی؟ اگر پرائے کو اپنی دولت کے فائدے سے دور رکھنا چاہتے ہو تو اپنی بہو کو اپنے بیٹے کی طرف منتقل شدہ دولت سے محروم کرکے دکھاؤ۔ اگر تم اپنی بیٹی کو دولت میں سے حصہ دو گے تو کیا اس کے بچے جو تمہارے نواسے نواسیاں لگتے ہیں انہیں آسائش میسر نہ آئے گی؟
کہا جاتا ہے کہ بیٹی کو جہیز میں بہت کچھ دے دیا۔ تو کیا لڑکے کا نکاح صرف چھواروں کے عوض کیا تھا؟ اور یہ جو لڑکی کے مقابلے میں لڑکے کو پڑھانے یا اسے کاروبار کرانے کے لئے زیادہ خرچ کرتے ہو تو اس کے بعد پھر اسے میراث دینے کا کیا جواز رہ گیا؟
الغرض بیٹی کو حصہ نہ دینے کی کوئی عقلی دلیل موجود نہیں، سوائے دل کی تنگی کے۔
۔
ڈاکٹر زاہد مغل

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں