ایک نظر رمضان کی طرف
https:/يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ - ۲۱ رمضان المبارک
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( آل عِمْرَان، 3 : 200)
اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور (جہاد کے لئے) خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقوٰی قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔
صبر ہر وقت استعمال ہونے والا لفظ ہے لیکن اسکا مفہوم بہت وسیع ہے۔ جتنا زیادہ آپ جاننے لگتے ہیں، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ واقعی، اگر صبر اور شکر کی عادت انسان اپنے اندر پیدا کر لے تو پھر خیر ہی خیر ہے، جیسا کہ نبیؐ نے بھی فرمایا۔ دونوں راستے جنت کی طرف جاتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صبر ہے کیا؟ صبر کا معنی ہے خود کو روک رکھنا، باندھ رکھنا۔ بنیادی طور پر صبر کا مفہوم ہے اللہ کے پسندیدہ کاموں کو کرنا، چاہے نفس اور بدن پر کتنا ہی گراں گزرے۔ اور اللہ کے نا پسندیدہ کاموں سے خود کو روکنا، چاہے کتنی ہی خواہش ہو۔
صبر کہاں کہاں کریں؟
۱۔ اطاعت میں صبر: پانی ٹھنڈا ہے لیکن وضو کرنا ہے۔ نیند آ رہی ہے لیکن نماز پڑھنی ہے۔ سب لڑکیاں کھلے بال، لمبے جھمکے پہن شادی اٹینڈ کرنے آئی ہیں، لیکن ہمیں با پردہ رہنا ہے۔ یعنی اللہ نے جو احکامات دیئے ہیں، چاہے نفس پر کتنے ہی بھاری ہوں، کرنے ہیں۔
۲۔ گناہ پر رکنے میں صبر: ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ گناہ کرنا اتنا آسان ہے جتنا ایک click کرنا۔ آپ کے پاس مواقع ہیں، اللہ کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں، پھر بھی رک جانا صبر ہے۔ یوسف ؑ کی مثال یاد کریں۔ عزیزِ مصر گھر پر نہیں، اس کی بیوی نوکروں کو بھی بھیج دیتی ہے۔ ایک امیر کبیر عورت خود کو سونپنا چاہتی ہے، تنہائی بھی میسر ہے، لیکن اللہ کا خوف آپ کو روک لیتا ہے۔ یہی صبر ہے!
۳۔ مصیبت پر صبر: پہلی چوٹ پر صبر کرنا ہی اصلی صبر ہے۔ رو دھو کر جب خوب واویلا کر لیا، پھر یہ کہنا کہ بس اب تو صبر کر لیا ہے، یہ صبر نہیں۔ کسی پیارے کی موت ہو جائے، مال کی کمی ہو، اولاد نہ ہو، اچھا رشتہ نہ ملتا ہو، یا نبھا نہیں ہو رہا تو اس کے ساتھ رہنا، یا اس کو چھوڑنا دونوں ہی صبر کا کام ہے۔کسی بھی صورت میں ہائے ہائے کے بجائے صبر!
موڈ خراب کیے بغیر قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنا صبر ہے۔ اگلی گاڑی کو چند لمحے کی تاخیر ہو جائے تو ہارن نہ دینا صبر ہے۔ کسی موضوع پر آپ کو گرفت حاصل ہے، زبان پر سارا علم مچل مچل رہا ہے لیکن حاضرینِ محفل کو گفتگو کا موقع دینا صبر ہے۔ آپ کے پرس میں پیسے ہیں، ایک اور بیگ، جوتے، ایک اور جوڑا کپڑے، بچے کا ایک اور کھلونہ پسند آ رہے ہیں لیکن آپ بلا ضرورت وہ چیز نہیں خریدتے تو یہ صبر ہے۔ اللہ کی پسند پر ڈریس اپ ہونا صبر ہے جبکہ ٹائٹ پینٹس کے ساتھ سکارف بس سر پر سٹائلش سا گھما لینا کتنا بھی اچھا لگے، سو طرح کے فیشن دیکھ دیکھ کر رال ٹپکے، ہال میں نک سک سے تیار ہوئی لڑکیوں کو دیکھ کر لاکھ دل مچلے۔
آپ روزے سے ہیں، کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ غصے کی ایک ابالی آتی ہے لیکن آپ چپ ہو جاتے ہیں، یہ صبر ہے۔ کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دے کر اسکی بے عزتی کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی خاموش ہو جانا صبر ہے۔ بچے کی پھینٹی لگا دینے پر آپ قدرت رکھتے ہیں، لیکن چپ رہ جاتے ہیں، یہ صبر ہے۔ کسی کی غلطی سدھانے کا خیال بہت شدت سے آ رہا ہے لیکن مناسب وقت اور موقع کا انتظار کرنا صبر ہے۔
دعا کر کے انتظار کرنا صبر ہے۔ کسی نے آپ کو کوئی راز کی بات بتائی ہے، اب انکے ساتھ ان بن ہونے کے بعد بھی اس راز کو راز رکھنا صبر ہے۔ محفل میں غیبت کا دور دورہ ہے، لوگوں کے نام رکھے جا رہے ہیں، مذاق اڑایا جا رہا ہے، ایسی محفل کا حصہ نہ بننا صبر ہے۔ کسی کی شادی نہیں ہوئی، بچے نہیں ہیں، یا آپ کی مرضی سے کم یا زیادہ ہیں، تو کتنا بھی دل چاہے اس سے سوال کرنے کا، مشورے دینے کا، خود کو روک لینا صبر ہے۔ کسی کے رنگ، شکل، قد، بال، بات کرنے کا طریقہ۔۔۔ اس پر تبصرہ نہ کرنا صبر ہے۔
عین جوانی میں کسی کے ساتھ افیئر نہ چلانا صبر ہے۔ قدرت ہوتے ہوئے بھی چھپی دوستیاں نہ بنانا صبر ہے۔ اگر ایسا کوئی حرام رشتہ بنا رکھا ہے، جیسے ہی سمجھ آیا کہ غلط کر رہا ہوں، اس کے ساتھ ہر تعلق توڑ دینا، ہر جگہ سے بلاک کر دینا، دوبارہ رابطہ نہ کرنا بھی صبر ہے۔ حرام کی لاکھ چاہت کے باوجود اس سے بچنا صبر ہے (اور حرام صرف گوشت ہی نہیں ہوتا، ہمارا پہننا اوڑھنا، ہم کیا سنتے ہیں، کیا بولتے ہیں، ہمارا مال، تعلقات۔۔۔ سب کچھ)
ایک تربیت ہے وہ جو والدین ہماری کرتے ہیں۔ ایک تربیت وہ جو ہم خود اپنی کرتے ہیں۔ جسے تزکیہ، self f-grooming, character-building جو بھی کہیے۔ اپنی تربیت کرنے کے لئے بھی بہت صبر کی ضرورت ہے۔ آپ کو پرانی عادتیں چھوڑی پڑتی ہیں، صبر درکار ہے! نئی عادتیں بنانی پڑتی ہیں، صبر چاہیے! اپنے پیاروں کی باتیں سہنی پڑتی ہیں، صبر کیساتھ! دوست احباب، محفلیں، سب کچھ تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ صبر کرنا پڑتا ہے! ایسے میں خود کو یاد دلاتے رہیں کہ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
صبر کرنے کی تلقین کے کے بعد "صابرو" کا کہا گیا۔ صابرو! دوسروں کو بھی صبر پر جماؤ۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو۔ جنگ کی شدتوں میں دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہنا (برائی کی یلغار میں شیطان کے مقابلے پر ڈٹنا بھی!)
اس کے بعد: رابطو! باہمی رابطے میں جڑ کر رہنا۔ محاذ پر مورچہ بند ہو کر جہاد کے لئے ہمہ وقت چوکنا اور تیار ہونا۔ (اسے بھی یوں دیکھیے کہ آپ دین پر چلنا چاہتے ہیں۔ خاندان والوں نے آپ کے خلاف محاذ کھڑا کر رکھا ہے۔ جہاں چار لوگ اکٹھے ہوئے، آپ کے پردے اور داڑھی کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔ پھر ہماری خوشی اور غمی کی رسمیں۔ اس غیر اسلامی کلچر کے خلاف جہاد کرنا بھی اس میں شامل ہے۔)
یعنی سیلف کنٹرول، سیلف گرومنگ، فیملی بانڈنگ، اور اکیلے نہیں بلکہ سب کو ساتھ لیکر، پوری تیاری کے ساتھ صبر کرنا۔ یہ ہے کامیابی کا نسخہ!
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ( الْبَقَرَة: 153)
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔
نفس کے محرکات، فیملی کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، رسمیں، کلچر، شیطان کے وسوسے۔۔۔ یوں سمجھیں کہ ہر طرف سے وار ہو رہا ہے۔ دین پر چلنا جب واقعی دہکتا کوئلہ اٹھانے کی مانند ہے۔ (الحدیث) ایسے میں صبر ہی ہے جو انسان کو تھام کے رکھتا ہے، ورنہ یہ سب وجوہات ایسی ہیں کہ انسان کبھی یہاں لڑھکے، کبھی وہاں۔ اور صبر کیسے حاصل کریں؟ نماز سے! رونے دھونے، رنگا رنگ شارٹ کٹ وظیفے کرنے سے نہیں۔ نبیؐ پر کوئی مشکل آتی، فورا" نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ ہم بھی دو رکعت نفل پڑھ لیا کریں اور معاملہ اللہ سے ڈسکس کر لیں۔ نماز سے صبر ملے گا، اور صبر سے اللہ! إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، استاذہ نگہت ہاشمی، استاذہ عفت مقبول، فرح رضوان کے لیکچرز سے استفادہ کیا گیا۔ یہ بہت وسیع موضوع ہے۔ مجھ سے بالکل بھی انصاف نہیں ہو پایا۔ بہرحال ہلکا سا تعارف دے دیا گیا ہے کہ صبر کا معنی ہے ڈٹ جانا، استقامت۔ انعامات میں بھی، مشکلات میں بھی۔ اللہ ہمیں صبر کرنے والا بنائے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( آل عِمْرَان، 3 : 200)
اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور (جہاد کے لئے) خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقوٰی قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔
صبر ہر وقت استعمال ہونے والا لفظ ہے لیکن اسکا مفہوم بہت وسیع ہے۔ جتنا زیادہ آپ جاننے لگتے ہیں، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ واقعی، اگر صبر اور شکر کی عادت انسان اپنے اندر پیدا کر لے تو پھر خیر ہی خیر ہے، جیسا کہ نبیؐ نے بھی فرمایا۔ دونوں راستے جنت کی طرف جاتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صبر ہے کیا؟ صبر کا معنی ہے خود کو روک رکھنا، باندھ رکھنا۔ بنیادی طور پر صبر کا مفہوم ہے اللہ کے پسندیدہ کاموں کو کرنا، چاہے نفس اور بدن پر کتنا ہی گراں گزرے۔ اور اللہ کے نا پسندیدہ کاموں سے خود کو روکنا، چاہے کتنی ہی خواہش ہو۔
صبر کہاں کہاں کریں؟
۱۔ اطاعت میں صبر: پانی ٹھنڈا ہے لیکن وضو کرنا ہے۔ نیند آ رہی ہے لیکن نماز پڑھنی ہے۔ سب لڑکیاں کھلے بال، لمبے جھمکے پہن شادی اٹینڈ کرنے آئی ہیں، لیکن ہمیں با پردہ رہنا ہے۔ یعنی اللہ نے جو احکامات دیئے ہیں، چاہے نفس پر کتنے ہی بھاری ہوں، کرنے ہیں۔
۲۔ گناہ پر رکنے میں صبر: ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ گناہ کرنا اتنا آسان ہے جتنا ایک click کرنا۔ آپ کے پاس مواقع ہیں، اللہ کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں، پھر بھی رک جانا صبر ہے۔ یوسف ؑ کی مثال یاد کریں۔ عزیزِ مصر گھر پر نہیں، اس کی بیوی نوکروں کو بھی بھیج دیتی ہے۔ ایک امیر کبیر عورت خود کو سونپنا چاہتی ہے، تنہائی بھی میسر ہے، لیکن اللہ کا خوف آپ کو روک لیتا ہے۔ یہی صبر ہے!
۳۔ مصیبت پر صبر: پہلی چوٹ پر صبر کرنا ہی اصلی صبر ہے۔ رو دھو کر جب خوب واویلا کر لیا، پھر یہ کہنا کہ بس اب تو صبر کر لیا ہے، یہ صبر نہیں۔ کسی پیارے کی موت ہو جائے، مال کی کمی ہو، اولاد نہ ہو، اچھا رشتہ نہ ملتا ہو، یا نبھا نہیں ہو رہا تو اس کے ساتھ رہنا، یا اس کو چھوڑنا دونوں ہی صبر کا کام ہے۔کسی بھی صورت میں ہائے ہائے کے بجائے صبر!
موڈ خراب کیے بغیر قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنا صبر ہے۔ اگلی گاڑی کو چند لمحے کی تاخیر ہو جائے تو ہارن نہ دینا صبر ہے۔ کسی موضوع پر آپ کو گرفت حاصل ہے، زبان پر سارا علم مچل مچل رہا ہے لیکن حاضرینِ محفل کو گفتگو کا موقع دینا صبر ہے۔ آپ کے پرس میں پیسے ہیں، ایک اور بیگ، جوتے، ایک اور جوڑا کپڑے، بچے کا ایک اور کھلونہ پسند آ رہے ہیں لیکن آپ بلا ضرورت وہ چیز نہیں خریدتے تو یہ صبر ہے۔ اللہ کی پسند پر ڈریس اپ ہونا صبر ہے جبکہ ٹائٹ پینٹس کے ساتھ سکارف بس سر پر سٹائلش سا گھما لینا کتنا بھی اچھا لگے، سو طرح کے فیشن دیکھ دیکھ کر رال ٹپکے، ہال میں نک سک سے تیار ہوئی لڑکیوں کو دیکھ کر لاکھ دل مچلے۔
آپ روزے سے ہیں، کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔ غصے کی ایک ابالی آتی ہے لیکن آپ چپ ہو جاتے ہیں، یہ صبر ہے۔ کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دے کر اسکی بے عزتی کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی خاموش ہو جانا صبر ہے۔ بچے کی پھینٹی لگا دینے پر آپ قدرت رکھتے ہیں، لیکن چپ رہ جاتے ہیں، یہ صبر ہے۔ کسی کی غلطی سدھانے کا خیال بہت شدت سے آ رہا ہے لیکن مناسب وقت اور موقع کا انتظار کرنا صبر ہے۔
دعا کر کے انتظار کرنا صبر ہے۔ کسی نے آپ کو کوئی راز کی بات بتائی ہے، اب انکے ساتھ ان بن ہونے کے بعد بھی اس راز کو راز رکھنا صبر ہے۔ محفل میں غیبت کا دور دورہ ہے، لوگوں کے نام رکھے جا رہے ہیں، مذاق اڑایا جا رہا ہے، ایسی محفل کا حصہ نہ بننا صبر ہے۔ کسی کی شادی نہیں ہوئی، بچے نہیں ہیں، یا آپ کی مرضی سے کم یا زیادہ ہیں، تو کتنا بھی دل چاہے اس سے سوال کرنے کا، مشورے دینے کا، خود کو روک لینا صبر ہے۔ کسی کے رنگ، شکل، قد، بال، بات کرنے کا طریقہ۔۔۔ اس پر تبصرہ نہ کرنا صبر ہے۔
عین جوانی میں کسی کے ساتھ افیئر نہ چلانا صبر ہے۔ قدرت ہوتے ہوئے بھی چھپی دوستیاں نہ بنانا صبر ہے۔ اگر ایسا کوئی حرام رشتہ بنا رکھا ہے، جیسے ہی سمجھ آیا کہ غلط کر رہا ہوں، اس کے ساتھ ہر تعلق توڑ دینا، ہر جگہ سے بلاک کر دینا، دوبارہ رابطہ نہ کرنا بھی صبر ہے۔ حرام کی لاکھ چاہت کے باوجود اس سے بچنا صبر ہے (اور حرام صرف گوشت ہی نہیں ہوتا، ہمارا پہننا اوڑھنا، ہم کیا سنتے ہیں، کیا بولتے ہیں، ہمارا مال، تعلقات۔۔۔ سب کچھ)
ایک تربیت ہے وہ جو والدین ہماری کرتے ہیں۔ ایک تربیت وہ جو ہم خود اپنی کرتے ہیں۔ جسے تزکیہ، self f-grooming, character-building جو بھی کہیے۔ اپنی تربیت کرنے کے لئے بھی بہت صبر کی ضرورت ہے۔ آپ کو پرانی عادتیں چھوڑی پڑتی ہیں، صبر درکار ہے! نئی عادتیں بنانی پڑتی ہیں، صبر چاہیے! اپنے پیاروں کی باتیں سہنی پڑتی ہیں، صبر کیساتھ! دوست احباب، محفلیں، سب کچھ تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ صبر کرنا پڑتا ہے! ایسے میں خود کو یاد دلاتے رہیں کہ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
صبر کرنے کی تلقین کے کے بعد "صابرو" کا کہا گیا۔ صابرو! دوسروں کو بھی صبر پر جماؤ۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو۔ جنگ کی شدتوں میں دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہنا (برائی کی یلغار میں شیطان کے مقابلے پر ڈٹنا بھی!)
اس کے بعد: رابطو! باہمی رابطے میں جڑ کر رہنا۔ محاذ پر مورچہ بند ہو کر جہاد کے لئے ہمہ وقت چوکنا اور تیار ہونا۔ (اسے بھی یوں دیکھیے کہ آپ دین پر چلنا چاہتے ہیں۔ خاندان والوں نے آپ کے خلاف محاذ کھڑا کر رکھا ہے۔ جہاں چار لوگ اکٹھے ہوئے، آپ کے پردے اور داڑھی کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔ پھر ہماری خوشی اور غمی کی رسمیں۔ اس غیر اسلامی کلچر کے خلاف جہاد کرنا بھی اس میں شامل ہے۔)
یعنی سیلف کنٹرول، سیلف گرومنگ، فیملی بانڈنگ، اور اکیلے نہیں بلکہ سب کو ساتھ لیکر، پوری تیاری کے ساتھ صبر کرنا۔ یہ ہے کامیابی کا نسخہ!
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ( الْبَقَرَة: 153)
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔
نفس کے محرکات، فیملی کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، رسمیں، کلچر، شیطان کے وسوسے۔۔۔ یوں سمجھیں کہ ہر طرف سے وار ہو رہا ہے۔ دین پر چلنا جب واقعی دہکتا کوئلہ اٹھانے کی مانند ہے۔ (الحدیث) ایسے میں صبر ہی ہے جو انسان کو تھام کے رکھتا ہے، ورنہ یہ سب وجوہات ایسی ہیں کہ انسان کبھی یہاں لڑھکے، کبھی وہاں۔ اور صبر کیسے حاصل کریں؟ نماز سے! رونے دھونے، رنگا رنگ شارٹ کٹ وظیفے کرنے سے نہیں۔ نبیؐ پر کوئی مشکل آتی، فورا" نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ ہم بھی دو رکعت نفل پڑھ لیا کریں اور معاملہ اللہ سے ڈسکس کر لیں۔ نماز سے صبر ملے گا، اور صبر سے اللہ! إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، استاذہ نگہت ہاشمی، استاذہ عفت مقبول، فرح رضوان کے لیکچرز سے استفادہ کیا گیا۔ یہ بہت وسیع موضوع ہے۔ مجھ سے بالکل بھی انصاف نہیں ہو پایا۔ بہرحال ہلکا سا تعارف دے دیا گیا ہے کہ صبر کا معنی ہے ڈٹ جانا، استقامت۔ انعامات میں بھی، مشکلات میں بھی۔ اللہ ہمیں صبر کرنے والا بنائے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں